ہمارا سماج

نابینا افراد اپنی صلاحیتوں اور محنت سے خود کو منوائیں

بلائنڈ ریسورس فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر محمد شکیل میمن کا کہنا ہے وہ ایک ایسا ادارہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں جہاں تعلیم و ہنر کے جدید ذرائع اور مواقع مہیا کئے جائیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو آر ایف آف دی بلائنڈ ملتان آفس آمد کے موقع پرماہنامہ ’’آڈیو ٹائمز ‘‘کو ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ۔

مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں پیدائشی طور پرنابینا ہوں ۔میٹرک Idarieo سکول فار دی بلائنڈ اور ایف اے گورنمنٹ کالج فار مین ناظم آباد کراچی سے کیا جبکہ گریجویشن کراچی یونیورسٹی سے 2001ء میں کی۔

دوران تعلیم میرے والد محمد مناف کا انتقال 2000ء میں ہوا جس کے باعث مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بی اے سے آگے نہ بڑھ سکا ۔اساتذہ اور والدین کی محنت و تعاون کے بغیر میرا یہاں تک پہنچنا بھی ممکن نہیں تھا ۔

ابو مجھے اونچے مقام پر دیکھنا چاہتے تھے ۔شکر ہے کہ میں اب اچھے مقام پر ہوں لیکن دکھ ہے کہ ابو موجود نہیں وہ ہوتے تو زیادہ خوشی ہوتی۔ انہوں نے بتایا میری بہن بھی نابینا ہیں ان کو بھی ابتدائی طور پر میں نے ہی پڑھایا ۔ جاب میں نے گریجویشن کے بعد شروع کی ۔ ملک میں چند ابتدائی طور پر کمپیوٹر سیکھنے والے نابیناؤں میں میرا شمار ہوتا ہے ۔

2002ء میں کمپیوٹر سیکھانا بھی شروع کردیا تھا ۔ ITسے متعلق میری باقاعدہ جاب 2006ء میں PABنیشنل ہیڈ آفس کراچی میں شروع ہوئی بعد میں دو سال Idarieoمیں کام کیا پھر PABسندھ میں بطور ڈائریکٹرITخدمات سرانجام دیں ۔ 3ماہ قبلPAB سندھ میں بریل پریس سٹارٹ کیا گیا ہے اس میں بطور بریل مینیجر فرائض ادا کررہا ہوں ۔

شادی شدہ ہوں ۔ 2012ء میں کراچی میں شادی ہوئی مسز بھی نابینا ہیں ۔ الحمد ﷲ ہم ایک خوشحال اور خود مختار زندگی گزار رہیں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ BRF نے ابتدائی طور پربریل قرآن پاک اور دیگر کتابیں بریل میں تیار کرکے نابینا افراد تک پہنچانا شروع کردی ہیں اس کے علاوہ میں نے نابینا بچوں کیلئے ایک سافٹ ویئر ڈیزائن کیاہے جس میں ہر ٹائپنگ ورڈ کے ساتھ اس کی آوازیں ہیں جیسے جانوروں ، گاڑیوں کی آوازیں وغیرہ ۔

اس کا نام میں نے Chirping Wordsرکھا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ITکے امکانات بہت روشن ہیں ۔ تعلیمی ضروریات ہوں یا ذاتی زندگی ITکا سکوپ زیادہ ہے اور اس میں انٹرسٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نابینا افراد کی تعلیم کے لیے بریل میں کتابیں Properمہیا کی جائیں ۔ روزگار میں جتنے فیصد بھی کوٹہ مقرر ہے اس پر ایمانداری سے عمل درآمد کیا جائے ۔

حکومت ہو یا سول سوسائٹی وہ نابینا افراد کو ایسا روزگار دے جو ان کی Skillsکے مطابق ہو اور بلائنڈ کو محض وظیفہ خور نہ بنایا جائے ان کی صلاحیت کے مطابق روزگار دیا جائے ۔

انہوں نے نابینا افراد کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنے رول ماڈلز ڈاکٹر فاطمہ شاہ ، صائمہ عمار ، سلمیٰ مقبول اور دیگر شخصیات کے نقش قدم پر چلیں، محنت کرنا سکھیں محنت سے خودکو منوائیں ۔ سوسائٹی بھی ہمیں تھوڑا سا موقع فراہم کرے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں ۔

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close