پاکستان
Trending

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کو سنجیدگی ، فراخدلی دکھانا ہوگی

ستّربرس بیت گئے، لا چاریوں اور محرومیوں کا سیلِ رواں تھمنے کو نہیں۔مسئلہ کشمیر 1948ء سے آج تک لٹک رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا لیکن “بے مہار استعماری قوتیں” کشمیریوں کو یہ حق دینے سے گریزاں ہیں۔ چھ ہزار سال پرانی تاریخ کی حامل ریاست ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے اور اس کا مستقبل خدشات کا شکار ہے۔

5 فروری کو ہم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اس پر گفتگو سے قبل چند لمحے پیچھے جاتے ہیں تاکہ ہمارے پون صدی سے قائم موقف پر سے کچھ گرد جھاڑی جا سکے۔ ماضی کے اوراق پلٹنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ ریاست بٹوارے کے وقت سے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع چلی آرہی ہے۔ 84 ہزار 4 سو 71 مربع میل رقبے پر محیط ریاست کو 27 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت نتھی کر دیا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس “جوڑ توڑ” کو تسلیم کرتے ہوئے اسے عارضی بتایا اور ہری سنگھ کو لکھا کہ “ریاست کا مستقبل عوام کی مرضی سے طے کیا جائے”۔ پاکستان نے اس “الحاق نما معاہدے” کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

جانبین سے فوج کشی ہوئی گو کہ ابتداء بھارت نے کی تھی، نتیجۃً ریاست کا ایک تہائی حصہ (32 ہزار مربع میل) پاکستان نے حاصل کر لیا۔ یہ حصہ “آزاد کشمیر” کے نام سے موسوم ہے۔ بھارتی سرکار یکم جنوری 1948ء میں مسئلہ کشمیر کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گئی۔ 20 جنوری 1948ء کو سلامتی کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے مسئلہ کشمیر کیلئے اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوپاک (UNCIP) قائم کیا، جس نے 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کو دو قراردادیں منظور کیں، ان قراردادوں کا لب لباب یہ تھا (۱) جنگ بندی (۲) کشمیر سے تمام فوجوں کا انخلاء(۳) کشمیر کے مستقبل کیلئے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری۔ اول الذکر پر عملدرآمد تو کرایا گیا، لیکن باقی دو نکات کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔

1950ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کمیشن (UNCIP) کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ آسٹریلیا کے سر اووین ڈکسن (Sir Owen Dixon) اور مسٹر گنروی جارنگ (Mr, Gunerv Jarring) نمائندے مقرر ہوئے۔ ان نمائندوں نے کشمیر کے کئی دورے کئے اور مسئلہ کشمیر پر فاضلانہ رپورٹیں تیار کیں، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی ہر مقام پر آڑے آئی اور یہ کوشش بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔

یہ تو تھیں ماضی کی باتیں، لیکن حال بھی نوحہ کناں ہے۔ کشمیریوں کا استحصال جاری ہے، اور مقہور قوم کی جانب سے مزاحمت (جو ان کا فطری حق ہے) بھی جاری ہے۔ ماضی قریب میں مقبوضہ کشمیر میں جاری جد و جہد مں شدت اس وقت آئی، جن وادی کا ایک بڑا رقبہ “امرناتھ نرائن” کے حوالے کرنے کا حکومتی فیصلہ سامنے آیا۔ یہ فیصلہ 2008ء میں منظر عام پر آیا۔ چنانچہ چنگاریاں سلگنا شروع ہوئیں، یہاں تک کہ جون 2010ء کو ایک الاؤ کی شکل اختیار کر گئیں۔ خطے کے عوام “کشمیر چھوڑ دو” کے سلوگن کے تحت صدائے احتجاج بلند کرنے لگے۔

جون 2010ء سے 2011ء تک 111کشمیری نوجوان خاک و خون میں تڑپا دئے گئے۔ بھارتی پارلیمنٹ نے معاملات کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر پارلیمنٹ کے اراکین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور صحافیوں پر مشتمل 11 رکنی وفد کو 6 ستمبر 2010ء کو کشمیر میں 3 روزہ دورے کیلئے بھیجا۔ اس وفد نے صورتحال کا جائزہ لیا، کشمیری زعماء سے ملاقاتیں کیں اور بھارتی سرکار سے مطالبہ کیا کہ اگر حالات کو معمول پر لانا ہے تو 111 نوجوانوں کی ہلاکت کی شفاف تحقیقات کروا کر مجرموں کو سزا دی جائے۔ اس طرح بھارتی حکومت بپھرے ہوئے لوگوں کا اعتماد جیت سکے گی۔ لیکن بھارت نے اس معاملے کو روایتی طور پر کچھ زیادہ توجہ کا مستحق نہیں سمجھا اور معاملہ بدستور کٹھائی میں پڑا رہا۔

بھارت کی جارحیت جو 64 برس سے جاری ہے، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اقوام متحدہ کے فیصلے اور قراردادیں اس کے سامنے بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں۔ 1948ء میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دئے جانے کے فیصلے سے مسلسل رو گردانی بھارت کی فطرتِ خبیثہ کا جزو لا ینفک بن چکی ہے۔ کشمیر کے علاقوں میں ہندوؤں کی آبادکاری جاری ہے۔

جون 2010ء سے شروع ہونے والی تحریک کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی سیاست میں بھونچال آچکا تھا۔ اس کے بعد سے تحریک آزادی میں کشمیری نوجوان نمایاں نظر آرہے ہیں۔ نوجوانوں کے پیہم احتجاج کے نتیجے میں کٹھ پتلی حکمران عمر عبداللہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ “بھارت کے ساتھ الحاق عبوری اور انتظامی مقاصد کیلئے تھا”۔ اور ادھر بھارت میں بعض سیاسی پارٹیاں بھی یہ کہنے لگیں کہ “کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہئے تاکہ وہاں پر خرچ ہونے والے وسائل کو بھارت کی داخلی ترقی میں استعمال کیا جاسکے”۔ (یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں موجود 7 لاکھ فوج پر بھارت کے یومیہ 25 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہو رہے ہیں)۔

بہرکیف کشمیر میں تحریک کے حوالے سے ایک شعور بیدار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی اس بنیادی مسئلہ کی جانب توجہ میں شدید کمی آئی ہے۔ گو کہ ماضی میں پارلیمنٹ نے خصوصی کمیٹی برائے امور کشمیر قائم کی لیکن اس کی کارکردگی گذشتہ کئی سالوں سے انتہائی مایوس کن ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ کمیٹی عملی طور پر بالکل “بے اختیار”ہے۔ اسی وجہ سے یہ چند مخصوص ایام پر صرف بیانات اور ہمدردانہ احساسات کا اظہار کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔اس بابت اختیارات کے حامل حلقے بھارت سے اعتماد سازی کی مہم پر ہیں اور اس اعتماد سازی کی کوششوں میں اپنے دیرینہ موقف سے آہستہ آہستہ دست بردار ہوتے جارہے ہیں۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان نے بھارت سے مفاہمتی رویہ اس لئے اپنایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن تصفیہ کیا جاسکے لیکن بھارت اس مفاہمتی عمل اور اعتمادسازی کو اپنے مقاصد خاص طور پر افغانستان تک تجارتی رسائی کیلئے استعمال کر رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کو ابھی تک متنازع تسلیم کرنے سے بھی عاری ہے۔ بھارت کے پیش نظر کشمیر کے خطے کی جغرافیائی اہمیت بھی ہے۔ اس کا چین کے ساتھ متصل ہونا بھارت کیلئے کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔

گذشتہ دنوں میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی رشتوں کو بہتر بنانے کیلئے اسے “انتہائی پسندیدہ ملک” قرار دیا۔ ملک میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے روایتی موقف رکھنے والے تمام دردمند حلقوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور کی بھی جانی چاہئے۔ جب ان دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ ہی “کشمیر” ہے تو بھارت کو “موسٹ فیورٹ اسٹیٹ” کا درجہ دینا کس معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔۔۔۔؟ پون صدی سے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کی قربانیاں دینے والے کشمیری باشندوں کو ہم بھارت سے پینگیں بڑھا کر کیا پیغام دے رہے ہیں۔۔۔۔؟

عمران خان جو پاکستانی عوام کو آجکل “روشن مستقبل” کے سہانے خواب دکھا تے پھر رہے ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں کشمیر کے حوالے سے گذشتہ 70سالوں کے بالکل برعکس موقف کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ کار کا کہنا تھا “عمران خان سے میری بات ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے انہیں مسئلہ کشمیر کی اے۔بی۔سی تک کا علم نہیں”۔۔۔ ان حالات میں کس سے توقع کی جا سکتی ہے۔۔

ہر سال 5 فروری کو پورے پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر “روایتی جوش و جذبے” سے منایا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام، کشمیریوں کے ساتھ اپنی محب اور گہری ہمدردی کا اظہار جلسوں، ریلیوں اور قراردادوں کی شکل میں کرتے ہیں اور ان کی آزادی کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔ یہ سب اقدامات اپنی جگہ بجا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض بعض مخصوص ایام میں جذبات کا “قولی” اظہار اور ریلیاں کشمیریوں کے گذشتہ 70 برس سے رستے زخموں کیلئے مرہم کا کام دے سکیں گے۔۔۔۔؟ کیا یہ “موسمی صدائیں” ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے کافی ہیں گی۔۔۔۔؟ کیا ریاست کی آزادی کا خواب محض کھوکھلے نعروں اور نمائشی “انسانی زنجیروں” سے شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔۔۔۔؟

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close