ہمارا سماج
Trending

قصور کی ننھی پری کاقصور کیا تھا ؟

تحریر: محبوب ملک

کیا یہی ہے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس کا’’ محفوظ پنجاب ‘‘؟
ننھی زینب کے قتل پر قصور سمیت نہ صرف پنجاب بلکہ پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ۔ قصور میں دوسرے روز بھی تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ صبح سے ہی مشتعل مظاہرین سول اسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔ گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے 2 افراد کے ذمہ دار 5 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
یاد رہے کہ چھ روز قبل 7 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا، جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ اس حوالے سے ابتدائی طور پر پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا لگتا ہے کہ بچی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔ اس واقعہ کے حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی، جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تا ہم پولیس اس واقعہ کے ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی، پولیس نے ملزم کا خاکہ بھی جاری کر دیاجس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ خاکہ غلط جاری کیا گیا ہے جو فوٹیج میں نظر آنے والے مجرم سے مشابہت نہیں رکھتا ۔

زینب کے قتل کی خبر ملتے ہی صحافیوں نے لاہور سے قصور کا رخ کیا۔ شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہاں کی سڑکیں وہاں ہونے والے واقعات کی آپ بیتی سنا رہی تھیں۔قصور شہر میں داخل ہونابھی اس وقت ایک امتحان تھا۔ کم عمر نوجوان، سکول کا یونیفارم پہنے، ہاتھوں میں ڈنڈے لیے شہر کے داخلی راستے بند کیے کچھ یوں کھڑے تھے جیسے سرحد کی حفاظت کر رہے ہوں ۔ ڈی سی او آفس کے باہر مشتعل مظاہرین اندر جانے کے جنون میں بپھرے ہوئے تھے۔ مظاہرین کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسان کی شنوائی نہ ہو رہی تو وہ کب تک چپ بیٹھے؟انہیں انصاف چاہیے، اب بہت ہوئی، لیکن وہ حکومت سے جواب چاہتے تھے یا اپنی مایوسی اور غم و غصے کو چھپا رہے تھے، یہ سمجھنے کی کوشش میں حالات تب خراب ہو گئے جب فائرنگ شروع ہوئی۔ لوگ بکھرنے لگے اور کہیں سے آواز آئی، گولی لگ گئی۔ کوئی ہسپتال بھاگا تو کوئی جان بچا کر گلیوں میں، تو کوئی حکومتی املاک کو بچانے کی کوشش کرتا رہا۔مشتعل ہجوم آہستہ آہستہ تھمنے لگا اور وہ شہر جو کچھ دیر پہلے انصاف کے لیے انتظامیہ کو جنجھوڑ رہا تھا وہاں کے ماحول میں کشیدگی اور غم و غصے کا ماحول محسوس تو ہو رہا تھا لیکن سڑکوں سے لوگ کم ہونا شروع ہو گئے جیسے شہر کو ایک چپ لگ گئی ہو۔

انجانے شہر میں اِدھر اْدھر بھٹکنے کے بعد خاموشی کی وجہ پتا چلی کہ سب لوگ زینب کے جنازے میں شرکت کرنے گئے ہیں۔ تنگ گلیوں میں راستہ ڈھونڈتے، نمازیوں کے ایک ہجوم کے ساتھ ہم بھی جنازہ گاہ کی طرف بڑھ گئے۔کالج گراؤنڈ میں پڑھے جانے والے جنازے میں جیسے سارا شہر سما گیا ہو۔ بہت سے لوگ تو ڈی سی او آفس کے باہر پیش آنے والی قیامت سے ناواقف ایک ہی موت پر غمزدہ ہو رہے تھے۔ جنازے سے نکلے تو دیکھا ہر گلی کوچے پر کھڑے لوگ زینب کی زندگی اور موت پر تبصرہ کر رہے تھے۔ایک خاتون صحافی ہمت کر کے دروازے تک پہنچی تو سوچا گھر والوں سے مل کر دیکھوں گی کہ بات کروں یا نہیں۔ دروازے پر کھڑے خاندانی محافظوں سے اجازت طلب کی تو خاتون ہونے کے باعث انھوں نے تھوڑی دیر انتظار کروا کر بھیج دیا۔

اندر پہنچی تو دھیمے لہجے میں ایک خاتون سے تعزیت کی اور اپنا تعارف دینے کے بعد پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ وہ زینب کی چچی تھیں اور مزید معلومات دینے والے ان کے رشتہ دار۔ اچانک ایک اور خاتون رپورٹر گھر میں داخل ہو گئیں اور روایتی انداز میں زینب کے بھائی بہنوں سے وہ سوال کرنے لگیں جن کو سن کر وہاں بیٹھے تمام افراد کا غم تازہ ہو گیا اور خواتین رونے لگیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ رپورٹنگ کرنا ایک باریک پگڈنڈی پر چلنے کے مترادف ہے، جس پر چلتے ہوئے بہت بار آپ ڈگمگاتے ہیں اور خود کو گرنے سے بچانا ایک ہنر ہے جو شاید ہر شخص نہیں کر پاتا۔ایسے واقعات کے اثرات ہمیشہ آپ کی زندگی پر رہتے ہیں۔ خاص طور پر جو مناظر لوگ دیکھتے ہیں اور جو جزبات محسوس کرتے ہیں۔ بہت بار رونے کا دل چاہتا ہے لیکن خود کو مضبوط ظاہر کرکے رو بھی نہیں سکتے تو اس گھر میں موجود زیادہ تر افراد سوچ رہے تھے کہ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کا کیا کریں۔وہاں تو یوں جیسے جنگ کے بعد کا سماں تھا، دفتر میں کوئی افسر نہیں اور باہر کوئی مظاہرین نہیں۔ تو ہم نے ڈی پی او آفس کا رخ کیا۔

تھوڑی دیر بعد اطلاع ملی کہ ڈی پی اوکو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔زینب کے والدین گھر لوٹے تو بیٹی کو دفنانے کے لیے سب قبرستان چل پڑے۔ ایک خاتون رپورٹر کا کہنا ہے کہ میں قبرستان میں تو داخل نہیں ہوئی لیکن باہر سے ہی ایسے مناظر دیکھنے کو ملے کہ جیسے کسی نے روح کھینچ لی ہو۔ قبر پر ڈالی گئیں گلاب کی پتیوں کو چومتے ہوئے زینب کے والد وہیں جیسے ہار کر گر گئے۔ روتے ہوئے وہاں سے اٹھے اور دعا کی کہ ’کاش جس درندے کے باعث میری بیٹی کو اس قبر میں اتارا گیا، اسے کھلے عام پھانسی دی جائے۔ کاش!

سات سالہ زینب کا وحشیانہ قتل قصورمیں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے قصور میں ایک سال کے دوران 12 بچوں کو اغواء کے بعد زیادتی کر کے قتل کیا گیا۔ پولیس نے 3 مشتبہ ملزمان کو مقابلوں میں ہلاک کیا۔جنوری 2017 میں 8 سال کی ایمان زہرہ کوٹ پیراں سے اغواء ہوئی، زیر تعمیر گھر سے لاش ملی لیکن کوئی ملزم نہ پکڑا گیا۔ فوزیہ جس کی عمر 7 سال تھی جو جنوری 2017 میں علی پارک سے اغواء ہوئی، اس بچی کی لاش بھی زیرتعمیر گھر سے ملی۔ اسی طرح فروری میں نور فاطمہ اے ڈویڑن کے علاقے شاہ عنایت کالونی سے اغواء ہوئی، لاش سڑک پر پڑی ملی، مریم فردوس جس کی عمر 6 سال تھی، مارچ میں اغواء ہوئی اور زیادتی کے بعد قتل کیا گیا لیکن کوئی ملزم نہ پکڑا گیا۔جون میں کھڈیاں خاص کے 11 سال کے بابر کو درندہ صفت شخص نے اغواء کر کے زیادتی کے بعد سانس کی ڈوری کاٹ دی۔ ثناء کی 8 جولائی کو اے ڈویڑن کے علاقے سے لاش ملی۔

جولائی کے آخر میں اسماء دودھ خریدنے اپنے گھر سے نکلی لیکن واپس نہ آئی اسکی لاش مل گئی۔ لائبہ کو اگست میں اغواء کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ کوٹ پکا قلعہ کی رہائشی 7 سال کی عائشہ کو ستمبر میں زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 7 سال کی زینب 5 جنوری کو اغواء کی گئی اور 9 جنوری کو لاش ملی۔کوٹ اعظم کی رہائشی 6 سال کی کائنات کے ساتھ بھی درندگی ہوئی، ملزم نے کائنات کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے خالی پلاٹ میں پھینک دیا، بچی ایک ماہ بعد بھی اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں قصور پولیس نے 3 مشتبہ افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا۔ ملزمان کی شناخت مدثر، ندیم اور امانت کے نام سے ہوئی تھی لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ تینوں ملزمان کا نہ تو ڈی این اے ٹیسٹ اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا۔

سوال یہ ہے کہ ایسے شرمناک ، افسوسناک اور الم ناک واقعات آخر کب تک ہوتے رہیں گے ؟ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور آئی جی پولیس پنجاب کی سیٹ پر کوئی بھی افسر تعینات ہو ہر جگہ ’’محفوظ پنجاب‘‘ کا نعرہ بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اﷲ ہر واقعے کا ملبہ میڈیا پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد حکمرانوں اور ان کے ماتحت اداروں پر سے اٹھتا جارہا ہے ۔ گزشتہ روز جب زینب کے والدین عمرے کی ادائیگی سے وطن واپس پہنچے تو انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس آ ف پاکستان جسٹس نثار ثاقب سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے ایک بار بھی وزیرا عظم ، وزیر اعلیٰ ، وزیر قانون یا آئی جی پنجاب سے مدد کی اپیل نہیں کی جس سے پتا چلتا ہے کہ متاثرہ خاندان کے دل سیاسی افراد اور اداروں سے کس حد تک مایوس ہوچکے ہیں ۔

وقوعہ کے 14روز بعد قصور کے رہائشی عمران علی کو حکومت پنجاب اور پولیس کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹ میچ ہونے کے باعث گرفتار کر کے عدالت میں پیش کردیا گیا ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک بڑی پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا۔اُمید ہے کہ مجرم کو قرار واقعی سزا ملے گی جو آئندہ کیلئے نشان عبرت ہوگی۔

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close