پاکستانسیاست

غرض کی گرد میں اٹے اسیر ذہنوں میں فکر بھرنے کوئی تو آئے

تحریر: قاضی نوید ممتاز

مشہور زمانہ نپولین کا قول ہے کہ 100ہاتھیوں کی فوج کا سپہ سالار شیر ہو تو وہ 100شیروں کی اس فوج پہ بھاری ہے جس کا سپہ سالار ہاتھی ہو ۔قائدانہ صلاحیتوں کے حامل افراد اگر ریاستوں پر براجمان ہوں تو سب اپنی صحیح سمت کا ادراک کرتے ہوئے طے شدہ طریقہ کار اور حدود و قیود میں چلتے ہیں مگر اس کے برعکس کمزور قوت فیصلہ ،مک مکا، ذاتی مفاد اور صداقت وامانت سے عاری شخصیات حکمران توہوسکتے ہیں، رہنما قائد یا مصلح نہیں ۔ قائد اعظم ، لیاقت علی خان ، خواجہ ناظم الدین اور فاطمہ جناح کی وفات کے بعد قحط الرجال میں مبتلا ہونے والی قوم آج بھی بے سمت ، شتر بے مہار ، بے ترتیب ہجوم کی مانند انجانی راہوں پہ گامزن ہے ۔

ماضی سے سبق نہ سیکھنے والے حال میں بے حال رہتے ہیں اورکوئی بھی ان کے بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ جب ریاست اور اس کے ادارے اپنی خامیوں کی اصلاح کرنے کے بجائے نشاندہی کرنے والوں کو باغی اور غدار سمجھنے لگیں تو پھر ذہنوں پہ خود غرضی کی گرد کے گہرے بادل سوچوں کو اسیر کردیتے ہیں ۔ حال ہی میں کراچی میں ایک بے گناہ نقیب اﷲ پولیس مقابلے میں ماردیا گیا ۔ سول سوسائٹی نے اس کے حلیے سے اندازہ لگایا کہ اتنا خوبرو ، کھلنڈرا جوان کس طرح دہشت گرد ہوسکتا ہے اور پھر ثابت ہوا کہ وہ بے گناہ تھا۔

آج ایک نقیب اﷲ کا شور مچانے والے نہ جانے کتنے بے گناہوں کو محض ان کی داڑھی ، ٹوپی ، نام ،شکل کی بناء پر موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں ۔ نہ جانے اس دہشت گردی کے شبہ میں کتنے مدارس میں مظلوم ، قاری اور حافظ ماردئیے گئے ۔ جب ریاست کے منہ کو خون لگ جائے اور اپنے شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے ،ماورائے عدالت قتل و غارت کرکے بہادری کے تمغے اور شہادت کے سرٹیفکیٹ لئے جائیں وہاں دہشت گردی کی جڑیں گہری ہوتی ہیں نہ کہ ان کا انسداد ہوتا ہے ۔ جو ریاست راؤ انوار جیسے آفیسرز کو لائسنس ٹو کل(Licence to Kill)دے دے پھر اس ریاست کو یہ حق نہیں کہ ان افسروں کو لگام ڈالے ،پہلے بنانا پھر استعمال کرنا او رپھر مٹانا یہ کھیل کوئی فسانہ نہیں حقیقت ہے ۔

ریاست نے طالبان بنائے امریکی مفاد میں روس کو تباہ کرنے کیلئے ۔ ڈاکٹر فاطمہ شاہ مرحوم اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے 77ء میں روس کا دورہ کیا تو وہاں مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک واپسی پر اپنے ایک کالم میں لکھ دیا ،پورا کالم چھپا مگر وہ حصہ ایڈٹ کردیا گیا۔ وجہ پوچھی تو اخبار نے بتایا کہ حکومتی پالیسی یہ ہے کہ روس کے خلاف نفرت پیدا کی جائے یعنی ریاست 70سال سے بے لگام اداروں کا وہ مجموعہ ہے جسے ہر وہی آئینہ اچھا لگتا ہے جو اسے اس کا رُخِ روشن دکھائے ۔ آج نقیب اﷲ ان گنت بے گناہ شہریوں کا وہ وکیل ہے کہ جنہیں ابدی نیند سُلا دیا گیا۔ دوسری جانب اسی ریاست میں بچوں کے ساتھ ہونے والی درندگی کا سفاک مجرم عمران قانون کے شکنجے میں آیا تو ریاست کے اہم ستون میڈیا میں بیٹھے چند عناصر نے اس قصے کا رُخ ہی بدل دیا۔ صحافی کبھی بھی حسد، بغض او رجانبداری میں مبتلا نہیں ہوتا۔

ظفر علی خان، میر خلیل، حمید نظامی ، شورش کاشمیری ، ضیاء محی الدین ، ڈاکٹر اشفاق احمد وغیرہ صحافت کے فلک پر چمکتے ستاروں کی ایسی کہکشاں تھے کہ جو خبر اور افواہ میں فرق جانتے تجزیے ، مفروضے اور ایجنڈے میں فرق سمجھتے تھے مگر آج سنسنی خیزی ، نفرت ، بغض ، حسد، انتقام ، خود غرضی کے خول میں لپٹے شاہد مسعود، مبشر لقمان، عارف حمید، فیصل عزیز ، عامر لیاقت جیسے کردار میڈیا کو اپنے مخصوص ایجنڈے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ افواہیں پھیلا کر گمراہی کی گرد اڑانے والے یہ اینکر تقسیم کرو اور راج کرو کے اصول پہ چلتے ہوئے بال کی کھال نکالتے ہیں ۔ عمران بین الاقوامی گروپ کا سرغنہ ہے، اس کے ان گنت بینک اکاؤنٹس ہیںیہ بااثر شخصیت کا کارندہ ہے ، فوج مارشل لاء کیلئے ریڈی ہے ، بلاول ہاؤس پر چھاپہ پڑے گا اور سندھ میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی ۔

اور تو اور بس اب کے تو قیامت آئی ہی آئی دنیا ختم۔ ذرائع نے یہ بتایا ، ذرائع نے وہ بتایا ریٹنگ کے چکر میں مالکوں کا پیٹ بھرنے کیلئے ہر نئے دن ایک نیا جھوٹ اور پھر اس پر شرمندگی تک نہیں اور ریاست بے بسی کی ایسی تصویر جو عوام کو ہیجان میں مبتلا کرنے والوں کو صاحب صاحب کہہ کر پکارے اور انہیں کسی قانون کے تابع نہ کرسکے ۔ یہ لوگ کبھی فوج کے خود ساختہ ترجمان بن جاتے ہیں تو کبھی عدالتوں کے ۔ خود جہازوں کے مالک ہیں اور دوسروں پر کیچڑ اُچھالتے ہیں ۔ یہ الطاف حسین ہوں تووہ وفاداراور یہ ساتھ چھوڑ دیا تو وہ غدار۔

یہ جب چاہیں جس کو گالی دیں اورجس کوچاہیں ہیرو بنادیں یعنی ان کے سامنے رکھا مائیک او رچلتے کیمرے انہیں اس قدر بے لگام کردیتے ہیں کہ یہ اخلاقیات تو بہت دور انسانیت کے معیار سے ہی گر جاتے ہیں ۔آج شاہد مسعود جیسے صحافی نفرت پھیلانے کے جس ایجنڈے پر قائم ہیں ریاست اس کے نتیجے میں گروہ در گروہ بٹ رہی ہے ۔ اسی ریاست کا ایک اور ستون علمائے کرام ہیں جن کا کام تھا تعلیم و تربیت اصلاح اور دین کی صحیح تبلیغ مگر ان علماء نے اپنے پیٹ کے چکر میں ہمیں بانٹ دیا۔

فرقے مسلک اور گروہ میں اس قدر تقسیم کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ سالہاسال اخوت بھائی چارے سے رہنے والے مسلمان آج آپس میں ایک دوسرے کی مساجد میں جاکر نماز نہیں پڑھتے ۔ تکلیف ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ کلب تھیٹر اور سینما میں بریلوی ، شیعہ، سنی ، دیوبندی ایک ہوکر گناہ کی لذت اور ذائقہ چکھتے ہیں مگر ایمان کی قوت اور سحر اتنا بھی نہیں رہا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں محمو د وایاز ۔

ریاست اپنی عوام کے ساتھ کتنی فرینڈلی ہے محض ایک مثال سے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 66کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں جس میں سے 6کروڑ پاکستانی ہیں ۔ پاکستان کا 64فیصد پانی گندگی ، تعفن اور دیگر غلاظتوں کا مجموعہ ہے ۔ منرل واٹر کے نام پر کروڑوں روپے کمانے والی 24مشہور ترین کمپنیاں سپریم کورٹ بند کرچکی ہے ۔ پانی کے معاملات کو دیکھنے کی ذمہ داری سرکاری محکمے پٹاک PATACKکی ہے جو ان کمپنیز کو رجسٹرڈ کرتا ہے اور ان کامعیار چیک کرتا ہے لیکن کیونکہ پٹاک خود ہر کمپنی کے نفع کا 2.5فیصد حاصل کرتا ہے اس لیے اسے پرواہ نہیں کہ عوام کیا پی رہے ہیں جبکہ دانشوراورماہرین متفق ہیں کہ اگر 5سال کے ترقیاتی بجٹ کا سالانہ 10فیصد صرف پانی کے منصوبوں پر لگایا جائے تو گھر گھر صاف ستھرا پانی پہنچ سکتا ہے ۔

لیکن یہ ترجیحات ان ریاستوں اور حکومتوں کی ہوتیں ہیں جو عوام کو اپنی طاقت ، قوت اور اثاثہ سمجھتے ہیں مگر یہاں تو سندھ کے لوگ زرداری جیسوں کی جاگیر اور مزارعے ہیں تو اہل پنجاب شریفوں کے بغیر اجرت مزدور، بلوچ عوام سرداروں کی ملکیت ہیں تو سرحد کے پٹھان عمران خان کے ہاتھ کاکھلونا۔ ان مٹھی بھر عناصر نے 70سال سے کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کے روپ میں عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر ان کے وسائل لُوٹے اور اپنے دامن بھرے ۔

مر گئے تو شہید بچ گئے تو سات نسلوں کے سکھ پائے اور اب تو تاریکی سیاسی اور گمراہی کا عجیب دور ہے بچے اور بچیاں تک درندگی اور ہوس سے محفوظ نہیں ہیں ۔ رشتوں کا تقدس اور احترام تو درکنار آنکھوں میں شرم وحیاء تک ختم ہوچکی ہے ۔ بے حجابی کا یہ عالم ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو کبھی اخلاقی تربیت گاہ ہوا کرتے تھے آج باہم قربت کا وہ عالم ہے کہ خدا کی پناہ اور اس کی روک تھام او رسدباب کرنے والا کوئی نہیں ۔

ایسی شیروں کی فوج کیا کرنی کہ جن کے ہاتھیوں جیسے سپہ سالار ہوں اس سے مراد جغرافیائی سرحدوں کے محافظ نہیں بلکہ وہ رہنما ہیں کہ جنہوں نے اسلام اور پاکستان کے نظریے کو فروغ دے کر ہجوم کو قوم بنایا تھا۔ پاکستان ، فرانس یا ایران جیسے انقلاب کے بغیر درست نہیں ہوسکے گاکیونکہ ریاست ایک طرف معصوم شہریوں کو دہشت گرد بنا کر ماررہی ہے تو دوسری جانب اصلاح کی بات کرنے والوں کو باغی اور غدار قرار دے رہی ہے ۔

تیسری جانب نام نہاد صحافیوں کے ایک گروہ سے اس لیے خوفزدہ ہے کہ شاید وہ فوج کی پشت پناہی سے سب کررہے ہیں ،چوتھی جانب فلاحی ، اصلاحی منصوبے نہیں اور سب سے بڑھ کر خوف خدا ، فہم القرآن ، فروغ سنت ، نظام شریعت نہیں ۔سود، بے حیائی ، بے دینی ، بے پردگی کے اس دور میں کوئی پیمبر کوئی امام زماں جو کم ازکم طاہر القادری تو نہیں ہوسکتا ،کوئی نیک سیرت حکمران جو عمران ، زرداری اور مشرف تو نہیں ہوسکتا ، کوئی مجدد جو کم از کم خادم رضوی نہیں ، کوئی اہل دانش جو شاہد مسعود ، عامر لیاقت یا مبشر لقمان تو نہیں ، کوئی مفکر جو کم ازکم فی الحال ظاہر تو نہیں مگر بحکم ربی آئے تاکہ بے دینی کی گردمیں لپٹے اسیر ذہنوں میں خوفِ خدا ، محبت رسولؐ اور فکر فردابھر کر تیزی سے تشکیل پائے ۔ وحشیوں اور درندوں کے جنگل کو پھر سے اسلامی جمہوریۂ پاکستان بنائے ۔ اداروں کو حدود میں لانے کیلئے ایک نیا سوشل کنٹریکٹ دے اور عوام کو ہجوم اور گروہ کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں سے نکال کر پھر سے ایک قوم بنادے ۔

جہاد اورفساد میں فرق بھی بتائے اور اداروں کو یہ بھی سمجھائے کہ خدارا! اب یہ کھیل بند کردیں بنانا، چلانا، چلا کر مٹانا۔ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے اور ماؤں کو گودیں اور بیویوں کے سہاگ نہ اجاڑیں ۔ دنیا سے جانے والا ہر نقیب اﷲ اور ہر زینب اﷲ کی عدالت میں ریاست کے ہر مقتدر سے انصاف کا سوال کریں گے اور تب آپ کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے خدارا! اپنی اپنی ڈومین اور اپنی اپنی بیرک میں واپس آکر اپنا کام ایمانداری سے کریں یا پھر قائد اعظمؒ کے روز قیامت اس کڑے احتساب کا سامنا کریں جو اﷲ تعالیٰ سے کہہ کر کروائیں گے ۔ فیصلے میں مزید تاخیر کھوکھلی ریاست کو کہیں اور کھوکھلا نہ کردے ۔

یہ ہے اس بار کا ’’کڑواسچ‘‘۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close