سیاست
Trending

سیاست کے سینے میں بغض سے بھرا دل نہ ہوتا تو زینب پہ سیاست نہ ہوتی

تحریر: قاضی نوید ممتاز

پاکستانی معاشرہ 2000ء میں کیا داخل ہوا تہذیب ، تمدن ، اقدار، روایات، رشتے روشن خیالی کی قبر میں دفن ہوتے چلے گئے ۔ اخلاقی بے راہ روی اور جسمانی ہوس نے خون کچھ اسطرح سفید کیا کہ پاکیزگی کی علامت سمجھے جانے والے رشتے ذلت کا نشان بن گئے ۔ سزا اور جزا کے قانون سے آزاد معاشرے میں قانون نے خود کو امیر اور طاقتور کے گھر کی لونڈی بنا لیا او رمظلوم عدم انصاف کے باعث تھانوں کچہریوں میں کھیلے جانے والے ذلت کے کھیل کی زدمیں رہے ۔ ننھی کلیاں اور پھول سے بچے اپنی کھیلنے کودنے اور آگے بڑھنے کی عمر میں درندگی اور ہوس کا جسطرح نشانہ بنتے رہے اس کی سب سے بڑی وجہ خوفِ خدا اور خوف قانون کا نہ ہونا ہے ۔

بالخصوص ایسے علاقے جہاں آج بھی جہالت راج کرتی ہے وہاں ایسے واقعات مسلسل ہوتے رہتے ہیں ۔2015ء میں جب 400کے قریب ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں کم عمر بچے بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا تب بھی ریاست کے پاؤں کے نیچے سے گزشتہ دنوں قصور ہی میں ایک بے قصور 7سالہ زینب اس وقت ہوس اور درندگی کا شکار ہوکر ابدی نیند جا سوئی جب اس کے اہل خانہ شاہوں کے شاہ کے آگے گدا گر بنے عبادات اور دعا میں مصروف تھے ۔ واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد زینب کے آگے اجتماعی شرمندگی، بے بسی اور اپنے کردار پر ماتم کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر اصلاحی ایجنڈے کی ضرورت تھی کیونکہ ہر کائنات ، ہر خدیجہ، ہر عائشہ اور ہر زینب ظالموں کی درندگی کے بعد مٹی تلے سو جاتی ہیں اور ہم اپنی گندی سیاست کا کھیل کھیلنے کیلئے ان ایشوز کو استعمال کرتے ہیں ۔ اپوزیشن حکومت کے خلاف NGO’sبیرون ممالک سے فنڈ لینے کیلئے پاکستان کے خلاف اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے خلاف۔

اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کہ ہم نے مجرمانہ غفلت کے ذریعے پر امن اور عظیم خاندانی روایات کو جدت کے نام پر تباہی سے دوچار کیا رونہ بزرگوں کا احترام ان کے ہاتھ میں خاندان اور گھر کا کنٹرول ایک دوسرے کیلئے سلام اور آداب ، اساتذہ کے جوتے اٹھانے کیلئے طلبہ کا بھاگنا، مساجد میں پنجگانہ اہتمام نماز، ماؤں کا باوضودودھ پلانا، نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک دوسرے سے دوری، الگ تعلیمی ادارے ، گھروں میں تلاوت قرآن پاک کا اہتمام، بچیوں سے گھر داری کرانا ، اپنی اولاد پر نظر رکھنا، بچوں کو تربیت اورہنر میں مصروف رکھنا، بالغ ہوتے ہی نکاح کردینا وغیرہ وہ اصول و ضوابط تھے جنہوں نے ریاست کے ہر گھر کو جنت بنارکھا تھا۔ PTVاو ریڈیو پاکستان اور اس وقت کے اخبارات انتشار پھیلانے اور ایجنڈا نافذ کرنے کے بجائے صحافتی اصولوں کے مطابق مثبت کردار ادا کرتے تھے ۔ حوا کی بیٹیوں کو آدم کے بیٹے تحفظ دیتے تھے ۔
نکاح سنت سمجھ کر ، سزا ضروری سمجھ کراور جزا لازمی سمجھ کر اختیار کی جاتی تھی یہ کوئی کئی سو سال پرانی باتیں نہیں 1947ء سے 2000تک کا پاکستان ایسا ہی تھا چند اکا دوکا واقعات کے سوا رشتوں کا تقدس اور احترام موجود تھا مگرآج ایسا نہیں ۔ اگر ہم چاہیں تو ایسے ہوسکتے ہیں کہ پھر کوئی زینب کسی درندگی کا شکار نہ ہولیکن اس کیلئے ہمیں بغض ، حسد، کینہ ، نفاق جیسے گندے اور غیر اسلامی امور سے بچتے ہوئے وہ سیاست نہیں کرنی ہوگی جوزینب کے معاملے میں کی گئی ۔

بیٹیوں پہ سیاست کرنے والے آج اپوزیشن میں بیٹھے بوڑھے ڈریں اس وقت سے جب خدانخواستہ ایسے ہی واقعات ان کی حکومتوں میں ہوں گے اور وہ اخلاقیات کا رونا روتے ہوئے کہیں گے کہ یہ غلط ہے کیونکہ آج جو آپ بو رہے ہیں یہ کل آپ کو کاٹنا پڑے گا۔ زینب کے ساتھ ہونے والا ظلم ایسا ہے کہ اس کے حقیقی مجرم کو پکڑ کر پبلک پلیس پر سب کے سامنے اسے پھانسی دینے کے بعد اس کی لاش کو مختلف چوکوں پر لٹکا کر یہ بتایا جائے کہ آئندہ زانیوں اور قاتلوں کے ساتھ ریاست سرعام ایسا سلوک کرے گی لیکن غم و غصے کا اسطرح کا اظہار کہ سرکاری املاک عوامی پراپرٹیز کو جلانا، توڑنا حکومتی جماعت کے منتخب ارکان کے گھروں میں گھسنا اور ایسی گندی سیاست پہ اکسانے والوں کو مسیحا سمجھنا مناسب نہیں ۔

یہاں ایک زینب پر ظلم ہوا تو آرمی چیف ، چیف جسٹس، صوبائی چیف جسٹس سب حرکت میں آئے تو شاید بلدیہ فیکٹری کے سینکڑوں یتیم بچوں کے ذہن میں یہ سوال آیا ہوگا کہ کئی سو خاندانوں کے قاتل حماد صدیقی کو کس قانون کے تحت بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کہیں حماد صدیقی بھی چھوٹو گینگ ، عزیز بلوچ یا سکندر کی طرح کا کوئی سکہ تو نہیں جو کسی نے اپنی خفیہ زنبیل میں سنبھال لیا کہ اسے وقت آنے پر چلایا جائے گا۔ انصاف کی دُہائیاں دینے والی عدالتوں نے ہی مجید اچکزئی اور شاہ رخ جتوتی کے آگے ہتھیار ڈالے ۔ جسطرح سی سی ٹی وی ویڈیو سب سے پہلے حاصل کرنے کے کھیل میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے یہ بھی’’لمحہ فکریہ ‘‘ ہے ۔

کیا زیادتی کا شکار لڑکیوں کی تصویروں کو اپنی ریٹنگ کیلئے چلا چلا کر ان کے خاندانوں کو جو اذیت دی جاتی ہے اس کا کسی کو احسا س ہے ؟ کیا چینل مالکان اپنی بیٹیوں سے متعلق اور دوسروں سے متعلق دوہرا معیار رکھتے ہیں ؟ اور کیا اس پوری گریٹ گیم کا ہمیشہ اینڈ کسی چیک پر نہیں ہوتا؟ زنا بالجبر پر شور مچانے والے لوگ زنا باالرضا پر شور مچانے والی اسلامی طاقتوں کو انتہا پسند کہتے ہیں ۔ مگر ہم نے اس موضوع پر بات نہیں کی اسے دبائے رکھا ۔ ہماری تربیت اور اصلاح کا سب سے بڑا ذمہ دار علاقے کا عالم کیا کررہا ہے ۔ اہل حدیث عید میلاد النبی ؐ منانے والوں پر تنقید کررہا ہے ،دیوبندی کو بریلویوں کے مشرک ہونے سے فرصت نہیں ۔ آج کے سجادہ نشین اور معرفت کے راگ الاپنے والے نذر ،نیاز ، نذرانے کے چکر میں الجھے ہیں نہ حقوق اﷲ باقی ہے نہ حقوق العباد ۔ زینب جیسی معصوم بچیوں کے ہاتھ صرف شریف فیملی کا گریبان نہیں پکڑیں گے بطور ریاست ہم سب کو اپنے اندار احساس شرمندگی پیدا کرنا ہوگا۔

زینب کے واقعے پر شور مچانے والا عمران خان ڈی آئی خان کی زیادتی کی شکار لڑکی کوانصاف دلائے ۔ زرداری ، عزیز بلوچ کی پشت پناہی کا حساب دے ، MQMکے مجرم PSPمیں جاکر ڈرائی کلین ہوں اور قادری عمر کے آخری حصے میں لوگوں کا سیاسی کندھا بن کر جمہوریت کا جنازہ نکالنے کی سازش نہ کریں ورنہ آج کا یہ لمحہ فکریہ یہ بھی اگر شور و غل حکومت کے میڈیا ٹرائل اپوزیشن کی گندی سیاست کی نذر ہوگیا تو پھر کوئی اور بے قصور زینب کسی اور درندے کا شکار ہو جائے گی۔ بدلنا ہے تو گناہ کی طرف راغب کرنے والی سوچ اور اس کے عوامل کو بدلو ورنہ جو جتنا بڑا چور وہ اتنا مچائے شور اور جس کی ڈگری جعلی یہاں وہی بولے امانت صداقت کے بول ۔ جو تعلیم کو کرے ناپاک اور بغض سے بھرے چلائے ویوز وہ فخر سے کہتے ’’میں ہوں پاک نیوز‘‘مگر زینب سب دیکھ رہی ہے اور زینب اور ہم سب کا خدا حد سے بڑھ جانے والے ظلم کے بعد انصاف کا سورج جلد اور ضرور طلوع کرے گا۔ انشاء اﷲ

اﷲ تعالیٰ امین انصاری سمیت ہر مظلوم خاندان کی داد رسی کرے۔ آمین

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close