اسلام

حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی

تحریر: محمد آصف چشتی نظامی

یہ بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا ہوں کہ سلطان الہند ، عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتیؒ سے مجھے کتنی عقیدت و محبت ہے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کی ذات اقدس بفیض سید الکونین ﷺ ہر دو علوم حمیدہ کی حامل ہے۔ آپ نے ہندوستان میں بفیض رسالت وہ تبلیغی خدمات انجام دیں جن کی حضور سرور عالم ؐ نے حجاز مقدس میں مثال قائم فرمائی تھی۔ ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کی آمد سرکار خواجہ غریب نواز کی ذات پاک سے منسلک ہے۔ اور آپ کے ورود مسعود سے ہی اس سلسلے کا فیضان یہاں جاری ہوا۔ آپ نے اصلاح و احوال و تزکیہ نفس کا حیرت انگیز کارنامہ بھی انجام دیا۔

آپ کے کردار و عمل کی خوشبو سے پورا ملک معطر ہو گیا۔ آپ نے اپنے خلفاء و مریدین کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس کے افراد نے ملک کے مختلف حصوں میں جا کر اپنے مرشد کی نیابت کے فرائض انجام دئیے جس کے نتیجے میں پورے ملک میں اسلام کی اشاعت بڑی زور و شو ر سے ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج چشتیت اور ہندوستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کی حیثیت سے مشہور و متعارف ہیں۔ آپ کے مُرشد خواجہ عثمان ہارونی ؒ آپ کے بارے میں کہتے کہ معین الدین خداکا محبوب ہے اور مجھے اس کی مریدی پر فخر ہے۔

سرکار خواجہ غریب نواز قدس سرہ حالت استغراق میں آنکھیں بند رکھتے جب نماز کا وقت آجاتا تو آنکھیں کھولتے، کہا جاتا ہے کہ اس حالت میں جس پر آپ کی نظر پڑ جاتی وہ ولی کامل ہو جاتا۔ آپ کا لباس مبارک جامہ دوتائی تھا یہ بخیہ کیا ہوا تھا جب کوئی کپڑا کہیں سے پھٹ جاتا تو جس قسم کا بھی پاک کپڑا میسر آتا بلاتامل اس کا پیوند لگا لیتے تھے۔ آپ کا لباس اکثر پیوند دار ہوتا تھا۔ آپ سفر میں تیر کمان اور چقماق ساتھ رکھتے تھے اور شکار سے اپنی روزی مہیا کرتے تھے ۔آپ کی خوراک گوشت او ر خشک روٹی پانی میں تر کی ہوئی ہوتی تھی۔ سرکار غریب نواز زمانہ کی خوش بختیوں سے نامور شعراء کی صف میں ہیں حضرت کا صوفیانہ کلام سات آٹھ ہزار اشعار کا بیش بہا خزانہ تھا۔ درج ذیل شعر عام طور پر خواجہ صاحبؒ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ جو حضرت شیخ علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی مدح میں ہے اور لاہور میں حضرت کے آستانے پر آج بھی منقش ہے۔

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل ، کاملاں را رہنما

آپ خواجہ اجمیری ؒ سے بے شمار کرامتیں ظہور میں آئیں۔ ایک شخص کو حاکم وقت نے بے قصور پھانسی کی سزا دلوا دی سرکار خواجہ صاحبؒ وضو کرنے کیلئے بیٹھے تھے کہ اس کی ماں گریہ وزاری کرتی ہوئی آپکی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے بیٹے کو بے قصور بتاتے ہوئے انصاف اور رحم کی بھیک مانگنے لگی۔ آپ اپنا عصائے مبارک لیکر اس عورت کے ساتھ چل دئیے۔ صوفیوں، خادموں اور اہل شہر کی ایک جماعت آپکے ساتھ ہو گئی۔ ملزم کو پھانسی دی جا چکی تھی آپ مقتول کے قریب پہنچے اور عصا سے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ۔ ’’اے مظلوم! اگر تو بے قصور قتل کیا گیا ہے تو خدا کے حکم سے زندہ ہو جااور دار سے نیچے چلا آ، آپ کا یہ فرمانا تھا کہ مقتول زندہ ہو گیا اور دار سے اُتر کر آپکے قدموں پر جھُک گیا اور اپنی ماں کے ساتھ چلا گیا۔

ایک دن آپ کے مرید خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ اپنے مرید بادشاہ دہلی سلطان شمس الدین التمش کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے شاہی قلعے کی سیر فرما رہے تھے وہاں بہت سے امراء و اراکین سلطنت بھی موجود تھے کہ اتنے میں ایک عورت نے حاضر ہو کر بادشاہ سے فریاد کی کہ ’’ خدارا میرا نکاح کرا دیجئے میں بڑے عذاب میں ہوں۔ بادشاہ دہلی نے کہا کہ تیرا نکاح کس کے ساتھ کرا دوں اور تو کیوں عذاب میں ہے ۔ اس عورت نے قطب الدین بختیار کاکیؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہ تین ماہ کا ناجائز بچہ ان سے ہے۔ حضرت خواجہ قطب الدین ؒ شرم سے پسینہ پسینہ ہو گئے۔ بادشاہ نے عورت سے کہا کہ تیرادماغ تو نہیں خراب ، جانتی ہے کس پر الزام تراشی کر رہی ہے، عورت بضد رہی ۔ دوسرے دن دربار میں اسی بات کی گونج رہی، عورت اپنے ساتھ چار گواہ لے آئی جنہوں نے گواہی دی۔ خواجہ قطب الدین ؒ سرکار خواجہ غریب نوازؒ کے مرید خاص ہیں۔ اور دہلی کا بادشاہ شمس الدین خواجہ قطب الدین ؒ کا مرید تھا۔ بادشاہ نے عورت کو علیحدہ بلا کر سمجھایا کہ دیکھ تُو جس پر الزام تراشی کر رہی ہے وہ کوئی عام ہستی نہیں، اللہ کے نیک عابد و زاہد بندے ہیں، آل رسول ہیں میں جانتا ہوں وہ اس طرح کی حرکت کے مرتکب نہیں ہو سکتے، اب بھی سچ بتا دو۔

عورت نے بادشاہ سے کہا کہ میں سچ کہہ رہی ہوں یہ بچہ قطب الدین کا ہی ہے ۔ پھر دربار لگ گیا۔ امراء وزراء بادشاہ سمیت سب موجود تھے، عدالت لگی، قطب صاحبؒ نے فرمایا کہ میں نے اپنے مرشد سید خواجہ غریب نوازؒ کو سب کچھ بتا دیا ہے، انہوں نے مجھے منع کیا ہے کہ جب تک وہ یہاں نہیں آئیں گے فیصلہ روک دیں۔ دربار برخاست ہو گیا اور خواجہ صاحبؒ کے آنے تک پورے دلی میں کہلوا دیا گیا کہ خواجہ غریب نواز کے یہاں آنے پر ہی اب یہ فیصلہ ہوگا۔ دہلی کے لوگ عجیب عجیب باتیں کرنے لگے کہ بادشاہ قطب الدین ؒ کا مرید ہے اس لئے نرم گوشہ روا رکھے ہوئے ہے۔ طرح طرح کے قصے گھڑے گئے۔ بادشاہ پریشان رہنے لگا ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرایا کہ فیصلہ ضرور ہوگا جب خواجہ صاحب تشریف لائیں گے۔ ایک دن بادشاہ قطب الدین ؒ کے حجرے میں گیا اور کہا کہ سیدی میں آپ کو جانتا ہوں آپ بڑے نیک ہیں اور وہ عورت جھوٹی، لیکن دہلی کے لوگوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے کوئی حل نکالیں۔ خواجہ قطب نے کہا کہ جب تک میرے مرشد نہیں آئیں گے فیصلے کیلئے انتظار کریں۔ دن گزرتے گئے۔ آخر ایک دن سرکار خواجہ سلطان الہند دہلی پہنچ گئے بادشاہ کو جب معلوم ہوا تو سیدھا حُجرے میں گیا اور کہا کہ سیدی لوگوں نے میری حکمرانی پر انگلیاں اٹھانی شروع کر دی ہیں آپ کا انتظار تھا، حکم کریں۔ سرکار خواجہ غریب نوازؒ نے فرمایا کہ کل صبح فیصلے کا اعلان کر دو ۔ بادشاہ اُلٹے قدموں واپس ہوا اور اور پورے دہلی میں منادی کرا دی گئی کہ کل صبح فیصلہ ہوگا۔

دوسرے دن پورے دہلی کا رُخ بادشاہ کے دربار کی طرف تھا ۔ خواجہ قطب الدین کے مخالف بڑے خوش تھے۔ اور اس دن ہندو اور دوسرے غیر مسلموں کے بھی ٹولے دربار کی طرف جا رہے تھے اور من ہی من میں خوشی منا رہے تھے کہ آج مسلمانوںکا روحانی پیشوا رسوا ہونے والا ہے اور ہمارے مذہب کی اونچائی بڑھے گی۔ بادشاہ نے خواجہ غریب نوازؒ کو دربار میں آنے کیلئے سواری کی پیشکش کی مگر خواجہ صاحبؒ نے منع فرما دیا کہ آج مہمان نوازی کا موقع نہیں ، آپ اپنے مرید قطب الدین ؒ کو لیکر پیدل ہی دربار میں حاضر ہوئے۔ سارا دہلی اُمڈ آیا تھا بڑے بڑے عہدے دار وزیر مشیر اپنی کرسیوں پر براجمان ہوئے۔ بادشاہ نے قاضی عدالت کو کاروائی کا حکم دیا، عدالت شروع ہوئی۔

عورت بچے کو لیکر عدالت میں کھڑی تھی ۔ خواجہ غریب نوازؒ نے آگے بڑھ کر عورت سے کہا کہ تیرا کہنا یہ ہے کہ اس بچے کا باپ قطب الدین ہے۔ عورت نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ نے کہا کہ اے عورت خدا کے خوف سے ڈر میرے قطب پر الزام تراشی لگاتے ہوئے تجھے شرم نہیں آئی، وہ بے گناہ ہے اور تُو اسے بدنام کر رہی ہے ۔ عورت نہ مانی آپ نے تین بار عورت کو سمجھایا عورت ڈٹی رہی۔ خواجہ صاحب نے لوگوں کیطرف اشارہ کر کے فرمایا کہ گواہ رہنا حُجت پوری ہو گئی۔ پھر گواہ بلائے گئے ، خواجہ غریب نواز سرکارؒ نے گواہوں کو دیکھا تو ان پر ہیبت طاری ہو گئی ۔ آپ نے گواہوں سے پوچھا ، گواہوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں اور انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ تین بار پوچھنے پر بھی وہ خاموش رہے۔ عورت دھاڑی اور گواہوں سے کہا کہ میرا ساتھ دو میں مظلوم ہوں اور یہ شخص گناہگار ہے،۔ مگر ان چاروں نے کوئی جواب نہ دیا۔

قاضی عدالت خواجہ قطب الدین کیخلاف فیصلہ سنانے لگا ، خواجہ غریب نواز سرکارؒ نے قاضی عدالت کو کہا کہ کیا آپ مان سکتے ہیں کہ قطب الدین ایسا جرم کر سکتا ہے۔ اللہ ہمیشہ بے گناہ کے ساتھ ہے ۔ قاضی عدالت نے کہا کہ ہماری ذات کا اس سے کیا تعلق، عدالت ثبوت مانگتی ہے اور سارے ثبوت ان کے خلاف ہیں۔ آپ ہمیں ثبوت دے دیں ہم ان کو بری کر دیں گے۔ قاضی عدالت بذات خود بھی خواجہ قطب الدین کے خلاف تھا۔

غریب نواز سرکارؒ نے بھری عدالت میں کہا کہ کیا اس تین ماہ کے بچے کی گواہی قبول کی جائیگی۔ یہ سن کر سارے حاضرین پر سکتہ طاری ہو گیا کہ تین ماہ کا بچہ کیسے بولے گا۔ قاضی نے کہا کہ یہ تین ماہ کا بچے سوائے رونے کے کچھ بھی نہیں بولتا یہ کیسے گواہی دے گا۔ بادشاہ نے قاضی عدالت کو غصے سے کہا کہ جیسے سلطان الہند کہتے ہیں ویسا کرتے کیوں نہیں ، قاضی عدالت تو بڑے جان لیوا فیصلوں سے گزرتے ہیں یہ تو ایک آسان مرحلہ ہے۔

قاضی عدالت کرسی سے اٹھا اور عورت کے قریب گیا جو بچے کو گود میں لئے ہوئے تھی ، قاضی نے بچے سے پوچھا کہ بتا تیرا باپ کون ہے، بچے نے کوئی جواب نہ دیا روتا رہا، قاضی مسکرایا ، پھر دوسری بار پوچھا، بچہ روتا رہا، تیسری بار پوچھنے پر بھی بچے نے کوئی جواب نہ دیا، قاضی مسکراتا ہوا واپس کرسی پر آ کر بیٹھا اور کہا کہ تین ماہ کا بچہ ہے کیسے بولے گا؟۔ اب خواجہ سرکارؒ آگے بڑھے اور بچے کے منہ سے کپڑا ہٹا کر کہا ، اسلام علیکم ! اے نومولود! بچے نے جواب دیا وعلیکم سلام یا سلطان الہند، آپ نے فرمایا اے بچے اللہ کے حکم سے بتا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ بچے نے بادشاہ کے تین خاص وزیروں میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرا باپ ہے ، اور میں اسکی ناجائز اولاد ہوں۔ بس پھر کیا تھا پورے دہلی نے دیکھا فیصلہ ہو گیا۔

بادشاہ وزیر پر سخت برہم ہوا، وزیر اُٹھا اور خواجہ غریب نوازؒ کے قدموں پر گِر گیا اور معافیاں مانگنے لگا۔وزیر نے کہا کہ بادشاہ ہر معاملے میں اپنے مرشد قطب الدین کی بات کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ہمیں یہ پسند نہیں تھا کہ ہماری بات کو ان سنا کر دیا جائے اس لئے یہ الزام لگایا، عورت بھی قدموں میں گر گئی۔ آپ نے معاف فرما دیا۔

لوگوں نے کہا کہ ان دونوں کو سزا دو مگر بادشاہ نے کہا کہ مدعی نے اسے معاف کر دیا ہے تو اب سزا کا کیا تصور۔ مختصر یہ کہ بعد میں وہ عورت اور وزیر خواجہ قطب الدین ؒ بختیار کاکی کے مرید ہو گئے۔

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close