اسلامپاکستانسیاست

اسلام میں شدت پسندی دہشتگردی ناجائز اور حرام ہیں

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اسلام میں شدت پسندی اور دہشت گردی فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو قطعاً ناجائز اور حرام ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہے ۔

علماء کی جانب سے پیغام پاکستان جیسا متفقہ فتوے پر خوشی ہے۔ یہ ملک کے امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ منگل کے روز ایوان صدر میں پیغام پاکستان کی تقریب روہنمائی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو کہ امن، رواداری، محبت اور انصاف کا دین ہونے کی حیثیت سے انسان کی زندگی، عصمت اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اسلام کی رو سے شدت پسندی ، خون ریزی اور خود کش حملے فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو قطعا ناجائز اور حرام ہیں۔

میری نطر میں یہ فتویٰ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ جس پر عمل درآمد سے انتہا پسندی کے فتنے پر قابو پانے میں مددم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فتوے کو ریاست کے متعلقہ اداروں کی تائید بھی حاصل ہے اور ی ہی اتفاق رائے ہماری کامیابی کی دلیل ہے ممنون حسین نے کہا کہ پیغام پاکستان ملک میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ہماری قوم غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہے۔

جس کا ثبوت ہم نے 70 ہزار جانوں کی قربانیاں دے کر پیش کیا۔ علماء کی جانب سے یہ کاوش بہت ہی خوش آئند ہے جس پر 1829 علماء کے دستخط موجود ہیں ۔ پیغام پاکستان میں ملک کے تمام طبقات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پیغام کو اپنا پیغام سمجھیں ۔ دنیا مین دور اندیش اور جہاندیدہ قومیں ان مسائل کا فائدہ لیتی ہیں جس سے وہ مشکلات کا شکار ہوتی ہیں میرے نزدیک 70 سے 90 کی دہائی کے درمیان ریاستی اداروں نے فرض کی ادائیگی نہیں کی جس کے باعث ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آج ہم ایسے مسئلے پر اکتھے ہوئے جس نے تین دہائیوں سے مشکلات کا شکار کر رکھا ہے۔ معاشرے میں شدت پسندی کی مختلف شکلوں پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ سید ممنون حسین نے کہا کہ دوسروں کی رائے کا احترام نہ ہونے کی صورت میں فرقہ واریت جنم لیتی ہے۔ جو کہ بعض اوقات ہمارے معاشرے میں بھی نظر آتی ہے۔

یہی رویے قوموں کی بربادی کا سبب بنتی ہیں اور بعض اوقات خوشحال سلطنتیں برباد ہوجاتی ہیں۔ صدر ممنون حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ قوم اور اس کے مختلف طبقات عہد کرلیں کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرانی جن کی وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے انتہا پسندی کے سدباب اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم کامتفقہ بیانیہ جاری کر دیا۔

اس موقع پر خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا بنیادی بیانیہ آئین پاکستان نے جو قرآن و سنت اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے افکار کی روشنی میں تیار کیا گیا جس پر پوری قوم کا اعتماد ہے جبکہ علما کا فتوی اس کی وضاحت اور تائید کرتا ہے جس کی رو سے انتہاپسندی اور دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔صدر مملکت نے یہ بات ایوان صدر میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب پیغام پاکستان کے اجرا کے موقع پر کہی جس میں18 سو سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتوی شائع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ پروفیسر احسن اقبال چوہدری، وزیرِخارجہ خواجہ محمد آصف، چئیرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یسین زئی، صدر وفاق المدارس العربیہ ڈاکٹر عبدالرزاق ، صدر تنظیم المدارس اہل سنت مفتی منیب الرحمن ، صدر وفاق مدارس سلفیہ پروفیسر ساجد میر ، صدر وفاق المدارس شیعہ علامہسید ریاض حسین نجفی ، صدر رابط المدارس مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا آئین قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہی ہمارا بنیادی بیانیہ ہے کیونکہ اس کی بنیاد قرآن وسنت کی تعلیمات اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے افکار پر رکھی گئی ہے۔اس لیے یہ ہماری پہلی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس بنیاد کو مضبوطی سے تھام لیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پیغام پاکستان کے نام سے مرتب کیے جانے والے فتوے میں تمام دینی مکاتب فکر نے قرآن و سنت کی روشنی میں باہمی اتفاق رائے کے ساتھ ایک اچھی دستاویز مرتب کردی ہے جس کے ذریعے فرقہ واریت اور دین کو فساد فی الارض کے لیے استعمال کرنے کی دلیل رد ہو جاتی ہے اور اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے آتا ہے، اس کامیابی پر اہلِ علم مبارک باد کے مستحق ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ علمائے کرام کے متفقہ فتویپیغام پاکستان کا بیانیہ ان لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا جو بعض ناپسندیدہ عناصر کے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہو کر راستے سے بھٹک گئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی روشنی میں دیا گیا یہ فتوی ان کی قلبِ ماہیت اور آخرت میں فلاح کا راستہ ہموار کرے گا، انشااللہ۔ صدر مملکت نے خواہش کا اظہار کیا کہ شدت پسندی کے حوالے سے ایک جامع دستاویز کی تیاری میں کامیابی کے بعد معاشرے میں فرقہ واریت کی فروغ پذیر مختلف شکلوں پر بھی توجہ دی جائے کیونکہ حال ہی میں فرقہ واریت کے بعض ایسے مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں جو کئی حوالوں سے تشویش ناک ہیں۔

اس ناپسندیدہ رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں فتنوں کا ایک اور بڑا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا جس پر قابو پانے کے لیے مدتیں درکار ہوں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ علمائے کرام، اہلِ فکرودانش اور ریاست کے تمام متعلقہ ادارے اس سلسلے میں ابھی سے خبردار ہو جائیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے علاوہ پورے قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ اجتماعی طور پر بھی کام کریں تاکہ حقیر مقاصد کے لیے قوم کو تقسیم در تقسیم سے بچایا جا سکے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج علمی انقلاب دنیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ مسلمان اس دستک کو سنیں اور مستقبل کے لیے اپنی سمت کو درست کر کے اپنے معاشروں میں امن و استحکام کو یقینی بنائیں کیونکہ اسی پر مستقبل کا انحصار ہے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ یہ بیانیہ قومی شناخت کا حصہ بن جائے ۔

دہشت گردوں کا ساتھ دینے والوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں اور دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بندوق کے ذریعے شریعت کا مطالبہ غلط ہے اور ہم اس سے برت کا اعلان کرتے ہیں اور ہم نے بندوق کے ذریعے شرعی نظام کا مطالبہ کرنے والوں کو تنہا کر دیا ہے ۔

ہماری اصل شناخت اسلام ہے مسلک نہیں ۔راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بیانیہ درست سمت میں مثبت کوشش ہے جس سے مقصد کے حصول میں آسانی ہو گی۔تقریب میں تمام شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پیغام پاکستان کو ملک کے گلی کوچے تک پہنچانے کی ضرورت ہے‘ علماء اور دانشور پیغام پاکستان کے اہم ستون ہیں‘ پیغام پاکستان آغاز سفر ہے ہمیں ابھی بہت آگے تک جانا ہے‘ قوم میں نفرت کی بجائے محبت کے بیج بونے کی ضرورت ہے‘ متفقہ بیانیہ مرتب کرنے پر تمام فریقین کے شکر گزار ہیں‘ ہمارا فرض ہے ہم اپنے ملک کو ٹھیک کریں اور امن و استحکام کا گہوارہ بنائیں۔ منگل کو پیغام پاکستان کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارہ تحقیق اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا دعوت دیین پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ متفقہ بیانیہ مرتب کرنے پر تمام فریقین کے شکر گزار ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے جانیں دینے والے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

آج ہم ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب کے بعد اب تعلیمی انقلاب دستک دے رہا ہے۔ مستقبل کے لئے سمت درست کرنے کے لئے تعلیمی انقلاب کا خیر مقدم کرنا ہوگا۔ صنعتی انقلاب کی دستک کو مغرب نے سمجھا اور ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی کوتاہیوں پر تنقید کرنے کی بجائے خود احتسابی پر توجہ دینا ہوگی۔ افسوس کے ساتھ صنعتی انقلاب کی دستک کو اسلامی ممالک نے نہیں سمجھا۔ ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست کے لئے ہمیں متحد ہو کر آگے بڑھنا ہے۔ جب بیانیہ منتشر ہوتا ہے تو تنازعات جنم لیتے ہیں۔ پیغام پاکستان ہمیں متحدہ کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔ خطے میں کئی عشروں سے تنازعات کو بھگت رہے ہیں۔

یہ تنازعات ہمارے پیدا کئے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ یہاں اسلحے کے انبار چھوڑ گیا پاکستان کے حصے میں 35 لاکھ افغان مہاجرین اور کلاشنکوف کلچر آیا۔ پیغام پاکستان کو ملک کے گلی کوچے تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ قوم میں نفرت کی بجائے محبت کے بیج بونے کی ضرورت ہے۔ پیغام پاکستان آغاز سفر ہے ہممیں ابھی بہت آگے جانا ہے۔ ہمارا فرض ہے ہم اپنے ملک کو ٹھیک کریں اور امن و استحکام کا گہوارہ بنائیں۔وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردوں کو ناسور قرار دیتے ہوئے متفقہ فتویٰ جاری کرنے پر علماء کے مشکور ہیں‘ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام ادارے اور علماء متحد ہوچکے ہیں‘ ہمارے نبی اکرمؐ سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے‘ اسلامی تعلیمات کی رو سے دوسروں پر اپنے نظریات زبردستی مسلط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ منگل کو پیغام پاکستان کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ دینی مدارس اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے دہشت گردوں کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا ہے۔

دہشت گردوں کو ناسور کہتے ہوئے متفقہ فتویٰ جاری کرنے پر علماء کے مشکور ہیں۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام ادارے اور علماء متحد ہوچکے ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے ہمارے نبی اکرمؐ سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے دوسروں پر اپنے نظریات زبردستی مسلط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیرت نبویؐ کا تقاضا یہ ہے کہ تمام اہل ایمان یکجا ہوں۔ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف اپنی قیمتوں جانوں کی قربانیاں پیش کررہی ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہیں‘ امریکہ کے ساتھ اتفاق کرکے زیادہ گہری دلدل میں دھنستے چلے گئے‘ ہمیں اپنے مستقبل اور ملک کے مفاد کی فکر کرنی چاہئے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہم کمزور ہوئے‘ امریکہ کے چرچوں میں جمع کئے گئے پیسے اسرائیلی بستیوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

منگل کو سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے پیغام پاکستان کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہم کمزور ہوئے۔ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بجائے ہم ملکی ترقی پر توجہ دے سکتے تھے۔ امریکہ کے ساتھ اتفاق کرکے زیادہ گہری دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ ہمیں اپنے مستقبل اور ملک کے مفاد کی فکر کرنی چاہئے۔ ایک ملاقات کے دوران امریکیوں نے مجھے مفاد پرست کہا اس میں کوئی شک نہیں مغرب کے اندر اسرائیل کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے پاکستان کے اندر بہت قربانیاں دی گئی ہیں امریکہ کے چرچوں میں جمع کئے گئے پیسے اسرائیلی بستیوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

طریقہ کار کی رو سے اسرائیل اور امریکہ میں فرق نہیں دیکھتے۔ پیغام پاکستان کے مختلف زبانوں میں ترجمے کرکے دنیا تک پہنچانا چاہئے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ امن کا انحصار انصاف پر ہے ظلم پر مبنی معاشرے قائم نہیں رہ سکتے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close